انسان زندگی ميں سہوليات کا کتنا جلدی عادی ہو جاتا ہے، اور اگر اس سے ان سہوليات کے پہلے والے زندگی ميں جو وہ گزار چکا ہوتا ہے ميں رہنا پڑ جائے تو اسے ايک مصيبت دکھائی ديتی ہے، فی زمانہ جيسے ميں خود ہوں، اگر مجھے کہا جائے کہ ميں کمپيوٹر کے اور انٹرنيٹ کے بغير رہ لوں تو ميرا تو چہرہ اُتر جاتا ہے ۔
اسی طرح جب ميرے بچپن کے دن تھے تو ميرے ننھيال والے گاؤں ميں بجلی نہيں ہوتی تھی اور سب لوگ گرميوں ميں صحن ميں چارپايوں پر آرام سکون سے سو جايا کرتے تھے، اُس وقت ٹريکٹر کی بيٹری سے ہم لوگ ٹی وی چلا کر ديکھا کرتے تھے، آپ ميں سے کتنے لوگوں نے ٹريکٹر کی بيٹری سے ٹی وی چلا کر ديکھا ہوا ہے؟ اور دن کے وقت درختوں کی چھاؤں ميں کافی سکون مل جايا کرتا تھا، وہاں ہمارے ننھيال کے پاس ايک ريلوے سٹيشن ہے چھوٹا سا جو گاؤں سے تقريبا ٣ کلوميٹر کے فاصلے پر ہے وہ ہم بچوں کی پسنديدہ جگہ ہوتی تھی ، وہاں بہت گھنے درخت تھے جن پر ہم بندروں کی طرح پکڑن پکڑائی کھيلا کرتے تھے اور شرط ہوتی تھی کہ درخت سے نيچے نہيں اُتر سکتے ہيں تو ايک درخت کی ٹہنيوں سے دوسرے پر کبھی اوپر کبھی نيچے مگر درختوں سے اُترنا نہيں اور نا ہی پکڑے جانا ہے، اس سے زيادہ دلچسپ کھيل ميں نے کوئی اور نہيں کھيلا ہے۔ پھر ہم لوگ پانچ پيسے اور دس پيسے کے سکے لے کر ريل کی پٹڑی پر رکھ ديتے تھے اور خيال ہوتا تھا کہ اگر اس پر سے سات دفعہ ريل گاڑی گزر گئی تو يہ مقناطيس ميں تبديل ہو جائے گا، مگر ہم کبھی سات گاڑياں گزارنے ميں کامياب نہيں ہوئے اس سے پہلے ہی سکہ کھو جاتا تھا۔ پتہ نہيں اب بھی شائد بچے يہ سب کھيل کھيلتے ہوں گے۔ ہاں تو اُس کے بعد ميرے گاؤں ميں بجلی آئی ہے ميرے گاؤں ميں بجلی آئی ہے کا گانا پی ٹی وی پر آنا شروع ہوا اور واقعی ميرے ننھيال والے گاؤں ميں بجلی آ گئی (ميری ددھيال ميں ميری پيدائش سے پہلے کی بجلی تھی) اُسکے بعد جب ميں ننھيال گيا تو جو لوگ سب مل کر درختوں کے نيچے بيٹھا کرتے تھے اب اپنے اپنے گھروں ميں اپنے کمروں تک کافی حد تک محدود ہو گئے تھے اور جو گرميوں ميں پہلے گرمی کی شکايت نہيں کرتے تھے لوڈ شيڈنگ پر گرمی گرمی پکار اُٹھتے ہيں۔
No comments:
Post a Comment